میری حقیقت میرا جنوں

Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Aaronsburg

چلوں تو چلتے ہی چلے جاؤں میں
رکوں تو صدیاں یونہی ایک جگہ بتا دوں میں

میری ذات کو لاحق ہیں خطرات خود مجھ ہی سے
دشمنی میں خود کی حد سے بڑھ جاؤں میں

اک تمنا لاحاصل سی اک آرزو بے نام سی
جلا رہی ہے تن من ۔۔۔ اب خاک میں ملجاؤں میں

جلا دوں سب کچھ جو کچھ میرا ہے یہاں پر
پھر خود کو جلتا دیکھ کر سکوں پاؤں میں

خواب سارے ہوا ہوئے اور خوشگمانی بھی آپ موت مرگئی
تلخ حقیقت زیست کی کچھ اسطرح آشکار کرجاؤں میں

خود کے ہاتھوں رسوائیاں مول لی ہیں اس طرح کہ
پاک دامن ہوکر بھی جہاں میں حیاء باختہ کہلاؤں میں

لکھوں تو اب کیا لکھوں میں کوئی فسانہ یا کوئی شعر
کورے کاغظ پر صرف کالی سیاہی ہی اب بھکراؤں میں

یہی میں ہوں یہی میرا فسانہ یہی حقیقت ِ زیست میری
تم نے جو پڑھا نہیں وہی میرا انجام جہاں میں کرجاؤں میں

Rate it:
Views: 728
21 Aug, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL