میری زندگی ہے تو
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratدلرُبا سا اک شخص ہے
میری ذات اُسی کے لیے ہی وقف ہے
میں اُس کے لیے ہی جیتی ہوں
اُسی کی خاطر ہنستی ہوں
وہ مجھ میں ایسے رہتا ہے
کہ جیسے چاند روشنی میں مہکتا ہے
آؤ نا ں
کچھ اور بتاؤں اُس کے بارے میں
وہ زندگی سا لگتا ہے
میری خوشیو ں میں جو جیتا ہے
میرے لیے ہی ہنستا ہے
کہ تارے اُس کی خاطر جلتے ہیں
چاند اُس کی خاطر چمکتا ہے
میں اُس میں سانس لیتی ہو ں
وہ مجھ میں زندہ رہتا ہے
ہم یو ں اک دوجے کی خاطر جیتے ہیں
جیسے گلاب ا ور خوشبو
اک دوجے میں مہکتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






