آج جو نظر اِک چہرا سرِ بازار آیا ہے
Poet: johar mumtaz By: johar mumtaz, lahoreآج جو نظر اِک چہرا سرِ بازار آیا ہے
لگتا ہے جیسے انجامِ انتظار آیا ہے
کیا بتاوں میں نے دل کوسنبھالا کیسے
سرِشام جو آنکھوں میں خمار آیا ہے
مت پوچھو زلفوں میں چھپا چہرا اُنکا
چاندنی رات میں چاند پہ نکھار آیا ہے
اُسکی سانسوں نے جو چھو لیامجھ کو
گلِ خزاں پہ گویا موسمِ بہار آیا ہے
سخت جان عشق سہنے کے باوجود
اُنکےحُسن میں تواوربھی نکھار آیاہے
نجانے کیوں مگر یہ سچ ہے جوہر
اُنکی بے رخی پہ بھی پیار آیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






