میری ناہید سخن میری خطا معاف کرو

Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, India

میری ناہید سخن میری خطا معاف کرو
میری تقصیر محبت و وفا معاف کرو

میرے باعث ہی ملا تجھ کو یہ ناسورِ کہن
پھر نہ کردوں میں اسے آج ہرا معاف کرو

مجھ کو خدشہ ہے تجھے ہوگا تکلف لیکن
شکوئہ عشق، مری آہ و بکا معاف کرو

مجرمِ عشق کو تھا ہی نہیں انجام کا علم
اس کے ناکردہ گناہوں کی سزا معاف کرو

پھر نہ چھڑ جائے کہیں تار ترے قلب و جگر کا
ساز دل کی مری بے تاب صدا معاف کرو

میں نے امید کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
تشنہ سامان تجھے چھوڑ دیا معاف کرو

خارِ احساس کھٹکتا ہے مری روح میں بھی
غنچہٴ دل بھی ہے مرجھایا ہوا معاف کرو

میرا سر بارِ ندامت سے ہے بوجھل میں نے
یاس و حرماں کے سوا کچھ نہ دیا معاف کرو

گو تری شمع پہ مرنے کا شرف پا نہ سکا
پھر بھی تیرا ہوں مجھے بہر خدا معاف کرو

تیری ناکام محبت کا خلیلی# ہے مزار
اس سے تم کو ہو اگر کوئی گلہ معاف کرو

Rate it:
Views: 598
31 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL