میری چاہت اور محبت ہو تم

Poet: Farkhanda Rizwi By: Shazia Hafeez, Attock

کیوں اک دیا سا بجھا ہے تجھ میں
پل پل کیوں بکھرنا ہے تجھے
عجب شہ ہے تیرے وصل کی تمنا بھی
سچ کہتی ہوں تجھ سے
میری جان ہو تم تم کو بتاؤں کیسے
ایک حقیقت ہے یہ بھی
پھولوں کی خوشنمائی کی خوشبو کی
مگر یہ بھی سچ ہے اک
تم پیاری ہو سب سے
اک پل کیلیے سوچوں تو ذرا
میری آغوش سکوں دے گی تمہیں
دنیا کے خیالات سے بہت دور لے جائے گی
ان سانسوں میں بسا لونگی تجھ کو
آزما کر تو دیکھو
ان لمحوں کو مجھے دے دو
جو ستاتے ہیں تمہیں
ان گرتے ہوئے آنسوں کو میرے
دامن میں سمانے دو
میرے ہونٹوں کی ہنسی اپنے لبوں
پر سجا کر دیکھو
کتنی اپنی ملوں گی
چاہو تو کھلی آنکھوں میں خوابوں کی مانند
بس جاؤ یا پھر
سپنا بن کر
نیند میں چلی جاؤ
ہر لمحہ تمہارا منتظر ہو گا
وہ میری چاہت و محبت کا لمحہ ہو گا

Rate it:
Views: 1927
01 Jul, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL