میری ہنسی لوٹا دو ماں

Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.A

مجھکو اپنی گود میں لے کر
پیار سے سلا دو
ماں

آنکھوں کے دیپ بجھ گئے ہیں
اک بوسہ سے انکو جگا دو
ماں

سسکتی ہوئی شام ہے
اور رات کا اکیلا پہر
اپنی قربت میں ساتھ لیکر
منزل میری دکھا دو
ماں

کیسے ڈھونڈوں تیرا سایہ
ہر راہ میں تاریکیاں
ڈستے ہوئے لمحے ہیں
اور سانسوں میں ہیں سسکیاں
اپنی بانہوں کا دے کر سہارا
پیار سے بہلا دو
ماں

جب سے تیرا ساتھ چھوٹا
ہر دعا کا بھرم ٹوٹا
الله کا تجھ کو واسطہ
ساتھ اپنا لوٹا دو
ماں

تیرے مقدس وجود سے
میرے آنگن میں تھی بہار
پاکیزہ وہ حسن تیرا
تھا سراپا الله کا روپ
بجھتے دئیے کر دو روشن
نور اپنا پھیلا دو
ماں

مرتے دم تک تیرا احسان
میں چکا ناں پاؤں گا
تیری جاگتی راتوں کا
حساب رکھ ناں پاؤں گا
میرے خوابوں میں آ کے مجھکو
صورت اپنی دکھا دو
ماں

کیسے مانوں تو نہیں ہے
کیوں میں جانوں تو نہیں ہے
میری آنکھوں میں تیری صورت
میری باتوں میں تیری چاہت
میرے خوابوں میں تیری مورت
میری پلکوں پے تیرا سایہ
پھول اور کلیوں میں تیری چھایا
ہر موسم میں رنگ تیرا
ہر لمحے میں تجھکو پایا
میری ہنسی اور شوخیاں
تیری ذات سے منسلک
روتی ہوئی آنکھوں کو میری
پھر سے ہنسی لوٹا دو
ماں

Rate it:
Views: 641
07 Jan, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL