کچھ یاد نہیں ہے

Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.A

کس موڑ پے بچھڑے تھے کچھ یاد نہیں ہے
کیوں خاک میں بکھرے تھے کچھ یاد نہیں ہے

کئی راہزن جو ملے راہ میں دوستوں کی طرح
کتنے سفاک وہ چہرے تھے کچھ یاد نہیں ہے

نکلے ناں اس گھٹن سے کوئی راستہ ناں تھا
کیوں دروازوں پے پہرے کچھ یاد نہیں ہے

وہ سنگدل وفاؤں کی ہم سے رکھتے رہے امید
اور خود ملزم کے کٹہرے میں تھے کچھ یاد نہیں ہے

آشیانہ بنایا تھا اس نے برسوں کی جستجو سے
چند لمحوں میں وہ اجڑے تھے کچھ یاد نہیں ہے

ہم سب بھلا کے تلخیاں جا دشت میں نکلے
کہاں سوئے کہاں ٹہرے کچھ یاد نہیں ہے

Rate it:
Views: 650
07 Jan, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL