میرے جنوں کو نئی زندگی عطا کر کے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Moscow

میرے جنوں کو نئی زندگی عطا کر کے
کہاں چلے ہو مجھے روح سے جدا کر کے

وہ ارتعاش دلاتا ہے ٹھہرے پانی کو
مجھے پکار رہا ہے جو بے صدا کر کے

ہمیش ہم نے تری رب سے آرزو کی ہے
کہ تجھ کو لب پہ سجائے ہیں ہم دعا کرکے

جس اک خیال پہ لکھتے رہے ہیں ساحر و فیض
ہم اس خیال کو لکھیں ذرا جدا کر کے

میں جانتی ہوں کہ حاصل کبھی نہ ہو گا کچھ
اے میرے چاند مجھے آپ سے گلہ کر کے

میں اس کی ہوگئی جب ،سب بنے مرے دشمن
مجھے وہ چھوڑ گیا ، سب کو ہم نوا کر کے

جو میری قید پہ شاداں کبھی ہوئے وشمہ
وہ اشک بار ہوئے ہیں مجھے رہا کر کے
وہ ارتعاش دلاتا ہے ٹھہرے پانی کو
مجھے پکار رہا ہے جو بے صدا کر کے

ہمیش ہم نے تری رب سے آرزو کی ہے
کہ تجھ کو لب پہ سجائے ہیں ہم دعا کرکے

جس اک خیال پہ لکھتے رہے ہیں ساحر و فیض
ہم اس خیال کو لکھیں ذرا جدا کر کے

میں جانتی ہوں کہ حاصل کبھی نہ ہو گا کچھ
اے میرے چاند مجھے آپ سے گلہ کر کے

میں اس کی ہوگئی جب ،سب بنے مرے دشمن
مجھے وہ چھوڑ گیا ، سب کو ہم نوا کر کے

جو میری قید پہ شاداں کبھی ہوئے وشمہ
وہ اشک بار ہوئے ہیں مجھے رہا کر کے

Rate it:
Views: 528
02 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL