میرے دل نے تیری یاد میں جلنا چاہا
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, RAWALPINDIمیرے دل نے تیری یاد میں جلنا چاہا
جب بھی پھول سے خوشبو نے بکھرنا چاہا
اک فریاد سدا خاموش سی آہوں میں ڈھلی
ہجر سے بوجھل ہوئی آنکھوں سے برسنا چاہا
تیری یاد میں ان گنت خوابوں کو تعبیریں دے کر
میری قسمت نے کئی بار سنورنا چاہا
تیری صورت کے اجالے کی کھا کر قسمیں
چودھوئیں شب کے مہتاب نے چمکنا چاہا
غم دنیا سے تنگ آکر میری زندگی نے
بن کے شمع تیری یاد میں جلنا چاہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







