تیری آنکھوں میں کتنی ہے محبت دیکھ لیتے ہیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, RAWALPINDIحالات ابھی ہیں قابو میں تیری صورت دیکھ لیتے ہیں
یہی سوچ کے ٹھہرے ہیں کہ قسمت دیکھ لیتے ہیں
ہم کناروں سے سمندر کی تہہ دیکھ لیتے ہیں
تیری آنکھوں میں کتنی ہے محبت دیکھ لیتے ہیں
چھپا کر لاکھ زمانے سے تیری جانب جب آتا ہوں
کیوں لوگ میرے چہرے سے تیری صورت دیکھ لیتے ہیں
یہ میرے چہرے کی غلطی ہے وہ اتنے ناز کرتے ہیں
وہ پہلی نظر میں دل تک کی حالت دیکھ لیتے ہیں
حرم میں لاکھ سجدے بھی مگر بے سود رہتے ہیں
اعمال جتنے پختہ ہوں وہ نیت دیکھ لیتے ہیں
وہ سارا حال بتاتے ہیں بہت دل کو بہلاتے ہیں
سنا ہے لوگ ہاتھوں سے قسمت دیکھ لیتے ہیں
تم لاکھ ہم سے چھپاؤ ہر پل کی خبر ہے ہمیں
جب ملنے کو جی چاہتا ہے تیری فرصت دیکھ لیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








