تیری آنکھوں میں کتنی ہے محبت دیکھ لیتے ہیں

Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Syed Waqas Shah, RAWALPINDI

حالات ابھی ہیں قابو میں تیری صورت دیکھ لیتے ہیں
یہی سوچ کے ٹھہرے ہیں کہ قسمت دیکھ لیتے ہیں

ہم کناروں سے سمندر کی تہہ دیکھ لیتے ہیں
تیری آنکھوں میں کتنی ہے محبت دیکھ لیتے ہیں

چھپا کر لاکھ زمانے سے تیری جانب جب آتا ہوں
کیوں لوگ میرے چہرے سے تیری صورت دیکھ لیتے ہیں

یہ میرے چہرے کی غلطی ہے وہ اتنے ناز کرتے ہیں
وہ پہلی نظر میں دل تک کی حالت دیکھ لیتے ہیں

حرم میں لاکھ سجدے بھی مگر بے سود رہتے ہیں
اعمال جتنے پختہ ہوں وہ نیت دیکھ لیتے ہیں

وہ سارا حال بتاتے ہیں بہت دل کو بہلاتے ہیں
سنا ہے لوگ ہاتھوں سے قسمت دیکھ لیتے ہیں

تم لاکھ ہم سے چھپاؤ ہر پل کی خبر ہے ہمیں
جب ملنے کو جی چاہتا ہے تیری فرصت دیکھ لیتے ہیں

Rate it:
Views: 1295
28 Apr, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL