میرے دل کی صدا
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPUR, BIRMINGHAMوہ جو میرے دل کی صدا لگتا ہے
نا جانےوہ اجنبی میرا کیا لگتا ہے
جس کی قبولیت میں ابھی دیر ہے
مجھے ایسی ہی کوئی دعا لگتا ہے
ہمارا روحانی رشتہ تو بڑا پرانا ہے
دیکھنےوالوں کو یہ تعلق نیا لگتا ہے
جس نےمیری زیست کو روشن کیا
مجھے تو وہ ایسا ایک دیا لگتا ہے
جس دن اس سےبات ہو جاتی ہے
اس روز میرا چہرہ ہرابھرا لگتا ہے
اس سےقبل تو سبھی بےوفا دوست ملے
مگر یہ مجھےدل کا کھرا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






