میرے گلشن میں جب باد صبا آتی ہے
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMمیرے گلشن میں جب باد صبا آتی ہے
پھول پودوں کو سلام کر کےجاتی ہے
لگتا ہے میرےگھر سےاسےپیار ہے
جو میرےصحن میں پھیرے پاتی ہے
ہفتے میںجب کبھی وہ ناغہ کرتی ہے
شام وسحر مجھےاس کی یاد ستاتی ہے
جب کبھی نا آنے کا اسے گلہ کروں
پھر تو کئی ماہ آتی جاتی نہیں ہے
اور تو اس کی سبھی عادتیں اچھی ہیں
روٹھنےوالی بات مجھے نا بھاتی ہے
مجھے اس سے کیوں اتنا پیار ہے
یہ بات میری سمجھ میں ناآتی ہے
دوستی کرنےسےتمہارا کیا مقصد ہے
جب ملتی ہے یہی سوال دھراتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






