میرے سارے سوال باقی ہیں

Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachi

سب بدلتے نصاب دیکھے ہیں
ہم نے ایسے سراب دیکھے ہیں

پھول سوکھے ہیں جو کتابوں میں
میں نے ان کے عذاب دیکھے ہیں

جن کی تعبیر کچھ نہیں ہوتی
میں نے ایسے ہی خواب دیکھے ہیں

لوگ سچے ہیں جو بھی دنیا میں
ہم نے زیرِ عتاب دیکھے ہیں

جب برستی ہے کھل کے کالی گھٹا
ہم نے صحرا سراب دیکھے ہیں

تم نے پایا ہے جس کو دنیا میں
ہم نے بس اس کے خاب دیکھے ہیں

تم محبت کی مالا جپتے ہو
ہم نے اس کے حساب دیکھے ہیں

عشق کے سارے باب دیکھے ہیں
جی ہاں بالکل جناب دیکھے ہیں

تم کو دیکھا تو یوں لگا مجھ کو
جیسے تازہ گلاب دیکھے ہیں

تو نے اک جھوٹا خاب دیکھا ہے
ہم نے تو بے حساب دیکھے ہیں

تم کیا جانو میری قربانی
ہجرتوں کے عذاب دیکھے ہیں

جانے کب آئیں گے مرے اچھًے
وقت سارے خراب دیکھے ہیں

ہم نے محفل میں بیٹھ کر سارے
چہرے وہ بے نقاب دیکھے ہیں

میرے سارے سوال باقی ہیں
تیرے سارے جواب دیکھے ہیں

Rate it:
Views: 624
10 Oct, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL