میرے غریب حکمرانوں کے لئے ناکافی ہے

Poet: purki By: m.hassan, karachi

ٹکڑوں میں بٹے معاشرہ کو
اک بات سمجھانا کافی ہے

پورے دنیا کے انسانوں کو
ایک ہی کتاب کافی ہے

رنگ و نسل کو اک پہچان بتایا
بڑھائی کے لئے تقوٰی کافی ہے

جن لوگوں نے اِس پیخام کو سمجھا
ان دیسوں میں ترقی کافی ہے

جن لوگوں نے اس کا مزاق اڑایا
ان ملکوں میں غربت کافی ہے

انسانوں کے سمندر میں پُرکی
ایک ہمدرد ڈھونڈنا کافی ہے

لائف اتنی مشکل بھی نہیں یا رب
پیٹ کے لئےاک روٹی کافی ہے

میرے دیس کے تمام خزانے اور روپے پیسے
میرے غریب حکمرانوں کے لئے ناکافی ہے

آبادی بربادی میں بدل رہی ہے خدارا بس کردو
آجکل اک بیوی اور دو بچّے کافی ہے

Rate it:
Views: 431
25 Dec, 2012
More Political Poetry