میرے قاتل میں نے تجھے چاہنے کی جرات کرلی
Poet: Maria Riaz By: Maria Ghouri, Haroona abadمیری پریوں جسی نیند عشق کی تلخیوں نے ضبط کر لی
کیوں میں نے اس جد تک تجھے چاہنے کی شدت کر لی
کتنی بے رحمی سے قتل کیا میرے جذباتوں کا
میرے قاتل میں نے تجھے چاہنے کی جرات کر لی
خوش ہو نا مجھ سے دور رہ کر خوش ہی رہو
میں نے بھی تجھے بھلانے کی پوری اک مدت کر لی
عشق کی غلطی کر کے غلطیوں سے بچتے ر ہے
جانے انجانے میں کیسی یہ غفلت کر لی
میں لاکھ بری سہی تمارے لیے مجھے بری رہنے دینا
تیرا نام پھر اک دفعہ لینے کی چاھت کر لی
تیرے بنا نہ رہنے کا تصور قائم کر لیا تھا
کیا سوچ کر زندگی نے میری ایسی حماقت کر لی
اجنبی ! میں نے تو تجھ سے محبت ہی کی تھی
اب احساس ھوا تنہائیوں نے مجھ سے محبت کر لی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






