کوئی محبوبہ خفا ہو جائے

Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D , UMTATA RSA

عشق گر تجھ کو نہیں ڈر کیا
یہ بھٹکنا ترا در در کیا ہے

موت بچوں کا کوئی کھیل بنی
زندگی، تجھ سے بچھڑ کر کیا ہے

چند چیزیں جو ڈسا کرتی ہیں
اور اس تن کو میّسر کیا ہے

زندگی موت سے بڑھ کر کیوں ہو
زندگی موت سے بہتر کیا ہے

دل ہو تنہا تو بلا سے دل کی
چاہے میلا ہو یا مہشر کیا ہے

بیقراری نہیں گر دل میں کوئی
جھیل میں پھینکنا پتھر کیا ہے

عاشقی نام ہے دربدری کا
ہوگیا کوئی جو بے گھر کیا ہے

اب کوئی صدمہ نہ پہنچے دل کو
تو نہیں ساتھ تو مہشر کیا ہے

کوئی نازک سا بدن کیا چھوتے
دیکھنے ہی کو میّسر کیا ہے

کوئی محبوبہ خفا ہو جائے
اور اشعار کا جوہر کیا ہے

ایک دن سب نے فنا ہونا ہے
یہ زمیں کیا ہے یہ امبر کیا ہے

ماہ و سال آتے ہیں کٹ جاتے ہیں
تجربہ ہی نہ ہوا گھر کیا ہے

ہے اگر وقت تو پھر سر پہ ندیم
برف گرنے کا یہ منظر کیا ہے

Rate it:
Views: 522
06 Mar, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL