میرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر
Poet: By: M I Shaheer, Kasurمیرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر
مجھے دیکھا نہ کر، مجھے سوچا نہ کر
میری بے خواب آنکھوں میں جھانکا نہ کر
میں تو کھو جاؤں گا مجھے ڈھونڈا نہ کر
میں ہوں باد صبا جو کہ رکتی نہیں
میں ہوں ایسی گھٹا جو برستی نہیں
میں ہوں ایسی لہر جس میں ہلچل نہیں
نہ تم کو ڈبو دیں یہ لہریں کہیں
میرے پاگل پیا ایسی خواہش نہ کر
میں وہ سپنا ہوں جو کبھی سچا نہ ہو
میں وہ امید جو کہ ادھوری رہے
میں وہ رستہ کہ جس کی نہ منزل ملے
میں وہ صحرا کہ جس میں بھٹک جاؤ گے
میرے پاگل پیا ایسے رستے نہ چل
میں ہوں ایسی کرن جو کہ بے نور ہے
میں ہوں ایسی ندی جو کہ خاموش ہے
میں تو وہ سیپ ہوں جس میں موتی نہیں
میں تو خوشبو ہوں جس کو بکھر جانا ہے
میرے پاگل پیا میرا پیچھا نہ کر
میں تو وہ شام ہوں جو کہ ڈھل جائے گی
میں تو وہ رات جس کا سویرا نہ ہو
میں تو وہ آگ ہوں جو دہکتی رہے
نہ میرے پاس آ تو بھی جل جائے گا
میرے پاگل پیا جا تو لوٹ جا
میرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






