میرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر
Poet: By: M I Shaheer, Kasurمیرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر
مجھے دیکھا نہ کر، مجھے سوچا نہ کر
میری بے خواب آنکھوں میں جھانکا نہ کر
میں تو کھو جاؤں گا مجھے ڈھونڈا نہ کر
میں ہوں باد صبا جو کہ رکتی نہیں
میں ہوں ایسی گھٹا جو برستی نہیں
میں ہوں ایسی لہر جس میں ہلچل نہیں
نہ تم کو ڈبو دیں یہ لہریں کہیں
میرے پاگل پیا ایسی خواہش نہ کر
میں وہ سپنا ہوں جو کبھی سچا نہ ہو
میں وہ امید جو کہ ادھوری رہے
میں وہ رستہ کہ جس کی نہ منزل ملے
میں وہ صحرا کہ جس میں بھٹک جاؤ گے
میرے پاگل پیا ایسے رستے نہ چل
میں ہوں ایسی کرن جو کہ بے نور ہے
میں ہوں ایسی ندی جو کہ خاموش ہے
میں تو وہ سیپ ہوں جس میں موتی نہیں
میں تو خوشبو ہوں جس کو بکھر جانا ہے
میرے پاگل پیا میرا پیچھا نہ کر
میں تو وہ شام ہوں جو کہ ڈھل جائے گی
میں تو وہ رات جس کا سویرا نہ ہو
میں تو وہ آگ ہوں جو دہکتی رہے
نہ میرے پاس آ تو بھی جل جائے گا
میرے پاگل پیا جا تو لوٹ جا
میرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






