وہ میرا تھا
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aاسکے آنگن میں جو کھلا پھول وہ میرا تھا
اسکی آنکھوں میں جو سجا خواب وہ میرا تھا
وہ جو لمحے تھے خوشی کے ہوئے درد میں پنہاں
اور اس کی پلکوؤں پے جو ٹہرا آنسو وہ میرا تھا
وہ عاشق تھی میرے شعروں کی میری غزلوں کی
اور اس کے ہونٹوں پے جو سجا گیت وہ میرا تھا
اپنی راتوں میں جو سجائے تھے کئی خواب نئے
اور دل کی بستی میں کیا تعمیر محل وہ میرا تھا
وہ جو بچھڑنے کا لمحہ تھا اب وہیں ٹہر چکا
اور جہاں سوز بنا اک ساز وہ سفر میرا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







