میرے ہمراہی
Poet: UA By: UA, Lahoreمیرے ہمراہی جب سے تیرا ساتھ پایا ہے
اب تو مجھے ہر راستہ ہموار نظر آیا ہے
تاریک شب ہو کہ صحرا کی دھوپ چھاؤں ہو
ہر اک منظر میری نظروں کو بہت بھایا ہے
ایک جگنو جو مجھے راستہ دکھاتا ہے
وقت نے اس کو میرا رپنما بنایا ہے
وہ مجھے میری منزل سے بھٹکنے نہیں دیتا
میری راہوں میں اس کی روشنی کا سایہ ہے
میں نے تمہارے ساتھ جو وقت گزارہ ہے
وہ ہی میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے
میری حیات کا ہر لمحہ گواہی دے گا
تمہیں پا کے میں نے اپنا آپ پایا ہے
میرے اطراف میں بزم تخیل رہتی ہے
میں تنہا ہوں یہ الزام کیوں لگایا ہے
عظمٰی آج غزل مشکل سے مکمل کی ہے
آخری شعر نے ہمیں بہت کھپایا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








