کچھ لمحے
Poet: UA By: UA, Lahoreکچھ لمحے میری آنکھوں سے عنقا نہیں ہوتے
میں خوابوں میں کھو جاؤں مگر یہ نہیں سوتے
میرے سائے کی طرح میرے ساتھ ساتھ رہتے ہیں
مگر جب چھونا چاہوں تو میرے اپنے نہیں ہوتے
میری آنکھوں میں تیری یاد کے شبنم کے قطرے ہیں
اسی لئے میری آنکھوں میں اب اشک نہیں ہوتے
یہ لمحے میری تنہائی کو محفل کی بہاریں دیتے ہیں
اس لئے ہم تنہائی میں بھی کبھی تنہا نہیں ہوتے
عظمٰی جو لمحے آج اس دامن سے لپٹے ہیں
میرے دامن کو کسی طور سمٹنے نہیں دیتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






