میں آنکھیں بیچنا چاہوں

Poet: Ajmal Nazir By: Ajmal Nazir, abbottabad

میں آنکھیں بیچنا چاہوں
کہ اِن میں خواب ہیں تیرے
میںتیرے خواب کیوں دیکھوں
نئے عذاب کیوں دیکھوں
یہی عذاب کیا کم ہے
تیری یادوں میں جلتا ہوں
تجھے پانے کی خاطر
میں نئے چہرے بدلتا ہوں
مگر تم بیوفا ہو جو میرے
خونِ تمنا کو جلا کر راکھ کرتے ہو
میرے دل کے نِہاں خانوں میں
انگارے سے بھرتے ہو
میں تجھ کو چاہوں تو کیونکر
کہ میں نے تجھ سے کیا پایا؟
وہی کچھ درد کے لمحے
جو تو نے مجھ کو بخشے ہیں
وہی کچھ دیپ اشکوں کے
جو اب آنکھوں میں جلتے ہیں
وہ تیری یاد کے خنجر
جو گھائل دل کو کرتے ہیں
مجھے تجھ سے شکایت ہے
مگر میں کیا کروں کہ
میں تجھے کچھ کہہ نہیں سکتا
جفا کا زہر پی کر بھی
میں تجھ بِن رہ نہیں سکتا
میں آنکھیں بیچنا چاہوں
مگر آنکھیں میں کیوں بیچوں
کہ اِن میں خواب ہیں تیرے
میں تیرے خواب کیوں بیچوں
یہ تیرے خواب ہی تو ہیں
جو میرے دل کی دھڑکن ہیں
اور اپنے دل کی دھڑکن کو
بھلا کب بیچ سکتا ہوں
میں آنکھیں بیچنا چاہوں
مگر کب بیچ سکتا ہوں

Rate it:
Views: 1218
07 Jul, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL