میں اپنی سوچ کی ہر سوچ میں یہی سوچوں

Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabad

میں اپنی سوچ کی ہر سوچ میں یہی سوچوں
نجانے تجھ سے عقیدت کا کون سا بندھن
ہے چاہتوں کا تعلق یا دوستی کی گرہ
یا کوئی رشتہ صبح ازل ہے رشتوں کا
کہ رات دن تیری سوچوں میں مست رہتا ہوں
میں تیری یاد کے ان مٹ نقوش میں ڈوبا
یوں تیرے پیار کی موجوں میں مست رہتا ہوں
تیرے خیال کو معراج عاشقی سمجھوں
تیرے معراج کو جمال شاعری سمجھوں
تیرے وصال کو معراج زندگی سمجھوں
مگر میں صبح و مسا سوچ سوچ کر سوچوں
کہ تیرا ہجر بھی آئے گا ایک دن آخر
تو میرے ذہن کی سب کہکشائیں ٹوٹیں گی
نہ تیرے قرب کے لمحات لوٹ پائیں گے
نہ تیری یاد کی یہ کشتیاں ہی ڈوبیں گی
مگر میں حسن ازل سے سدا دعا گو ہوں
میرے خدا میرے دل کی یہ التجا سن لے
کہ اب کی بار جو لمحات قرب یار آئیں
تمام عالم موجود بھی گواہی دے
ہم ایک دوسرے کو دیکھتے رہیں شاہی
ﻧﮧ دھڑکنوں کی صدا تک ہمیں سنائی دے
مجھے قرب کی لذت سے آشنا کر دے
وہ رات لاکھوں برس پر محیط ہوجائے
تو ایسی صبح کے سورج کو اندھا کردینا
جو میرے یار کو مجھ سے چھڑا کے لے جائے

Rate it:
Views: 1461
23 Dec, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL