میں اکثر بھول جاتا ہوں
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aمیں زندگی کی بھیڑ میں گم ہو کر
اکثر بھول جاتا ہوں
تیرے وجود کے اس رشتے کو
تیری سانسوں کے اس بندھن کو
تیری بانہوں میں تل تل
پگھلتے ہوئے لمحوں کو
جو میری سانسوں میں
طوفاں مچاتے ہوئے
میری آنکھوں کی رنگینیوں میں
کھو سے جاتے تھے
میں اکثر بھول جاتا ہوں
تیرے لہجے کے کانپتے ہوئے
اس احساس کو
جس کی تپش سے جلتے تھے
میرے لفظوں کے پیرھن
اور میں گم صم ہو کر
کھو سا جاتا تھا
تیری باتوں میں لپٹی ہوئی
خوشبو کی ٹہنیوں سے
اور ان جگمگ ستاروں سے
جو تیرے لفظوں سے ٹوٹ کر
میری روح میں سماتے تھے
اور میں تیری ادھ کھلی آنکھوں
کی چلمن سے جھانکتے ہوئے
ان بے بس سوال کرتے ہوئے
جگنوؤں میں رک سا جاتا تھا
اور زندگی کی بھیڑ میں گم ہو کر
ان سب کو میں
اکثر بھول جاتا ہوں
کبھی تیرا تھا میں
یہ بھی بھول جاتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







