میں تجھ کو پا کے بھی کچھ غم زدہ سا رہتا ہوں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanمیں تجھ کو پا کے بھی کچھ غم زدہ سا رہتا ہوں
کہ میرے چاروں طرف بھوک ہے بیماری ہے
ہیں نوجوان پریشاں بے روز گاری ہے
کہیں نشاط ہے ، عشرت ہے، جش کا ہے سماں
کہیں پہ لاشے ہیں غربت کے ،آہ و زاری ہے
گلی گلی میں سسکتی ہوئی حیات تو دیکھ
ہر ایک سمت غموں کی سیاہ رات تو دیکھ
قدم قدم پہ یہ بکتی ہوئی دوشیزائیں
یہ مفلسی کے کفن میں جواہرات تو دیکھ
یہ دیں کے نام پہ دنیا کمانے والے عیار
یہ حکمران یہ سرمایہ دار سب مکار
منافقت میں ہے ڈوبا ہوا سماج مرا
بدل یہ جائے نہیں اس کے کوئی بھی آثار
جہاں کے سامنے نظریں جھکائے بیٹھے ہیں
ہم اپنے ہاتھوں سے خود کو مٹائے بیٹھے ہیں
کریں کیوں غیر سے شکوہ کہ اپنے ہی ہیں عدو
ہم اپنے نفس کی عزت گنوائے بیٹھے ہیں
لٹا کے آدھا وطن اب بھی ہوش آیا نہیں
کہ ہم نے کوئی بھی حاکم تو ٹھیک پایا نہیں
نہ گیس ہے نہ ہی بجلی ہے دستیاب یہاں
نظام آج تلک تو کوئی بنایا نہیں
اسی لیے تو مری جان تجھ سے کہتا ہوں
میں تجھ کو پا کے بھی کچھ غم زدہ سا رہتا ہوں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






