میں تمہارے نام کو نا معتبر کیسے کروں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKمیں تمہارے نام کو نا معتبر کیسے کروں
بِن تِرے آباد اِس دِل کا نگر کیسے کروں
پھیر لوُں آنکھیں وفا سے کِس طرح ممکن ہے یہ
زندگی بھر کی عبادت بے ثمر کیسے کروں
وہ چلا آۓ گا اِک لمحے میں پرُسش کو مرِی
ہے یقیں مجھ کو ، مگر اُس کو خبر کیسے کروں
حسنُ کا شیدا ہے، اُس کو چاندنی سے پیار ہے
جانتی ہوں ، خود کو پر رشکِ قمر کیسے کروں
اپنے اشکوں کو بنانا چاہتی ہوں آگ میں
کویٔ سمجھاۓ کہ شبنم کو شرر کیسے کروں
صبر کا دامن کِسی حالت میں اپنے ہاتھ سے
چھوڑ کر عذراؔ دُعایںٔ بے اثر کیسے کروں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






