میں جسم و جاں کی دیوار
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesتمہارے پیار کی گہرائی میں غرقاب رہتی ہوں
گزرتے وقت کی آنکھوں میں بن کر خواب رہتی ہوں
تمہارے دل میں آنے کے لئے اک روح کی مانند
میں جسم و جاں کی دیوار میں بے تاب رہتی ہوں
ترے دل کے نہاں خانوں سے نکلوں تو کہیں جاؤں
زمانے کے لئے آخر میں کیوں نایاب رہتی ہوں
بھلا اٹھلا کے ساحل پہ کیوں رقصِ موج کہلاؤں
چھپائے ولولوں کو دل میں زیرِ آب رہتی ہوں
تیری یادوں کے پیکر سے لپٹ کر سو گیا یہ دل
مگر میں تو تصور میں ہی محوِ خواب رہتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






