میں خزاؤں میں زندہ رہ لوں گی
Poet: Shazia Hafeez By: Muhammad Hafeez Javed, Attockزندگی بھر کی بندگی لے لو
میری الفت کی سادگی لے لو
اک پل کی مجھے خوشی دے کر
مجھ سے میری یہ زندگی لے لو
اپنا ھر دکھ مجھے دے دو
میرے جیون کی ہر خوشی لے لو
چند سانسیں میرا اثاثہ ہیں
لینا چاہو تو ان کو بھی لے لو
میری قسمت میں خار رہنےدو
میرے دامن کی ہر کلی لے لو
میں خزاؤں میں زندہ رہ لوں گی
تم بہاروں کی تازگی لے لو
آج تم سے یہ گزارش ہے
اک پل کی خوشی مجھے دے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






