میں سوچتا ہوں کوئی کھوٹ اپنی چاہ میں تھا
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canadaمیں سوچتا ہوں کوئی کھو ٹ ا پنی چاہ میں تھا
و گر نہ کو ن سا پتھر ہما ری راہ میں تھا
محبتو ں کا سمند ر ، عقید تو ں کا پہا ڑ
نہ پو چھ او ر کہ کیا کیا د لِ تبا ہ میں تھا
و ہ شخص مجھ سے ملا بھی تو ا جنبی کی طر ح
سرُ اغ جسکا مرِے درد کی پنا ہ میں تھا
اے میرے خونچگاں زخمو ، گو اہی دو کہ کبھی
میں اپنے چاہنے والوں کی جلسہ گاہ میں تھا
و ہ ا یسا د رد کہ جو آ سمان چیر سکے
نہ اسکے ہونٹوں پہ تڑپا ، نہ میری آہ میں تھا
یہ میری شاعری اس آدمی کا نوحہ ہے
تمام عمر جو خو ابو ں کی قتل گاہ میں تھا
ق
ا گر چہ میں بھی ا سیر انِ ا نتبا ہ میں تھا
متا عِ ز یست مگر لذ تِ گنا ہ میں تھا
میں ر و زِ حشر بڑی عاجزی سے کہہ دو نگا
یہ مشتِ خاک کبھی تیری بار گاہ میں تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






