Main Aur Ahsan

Poet: Zia Shehzad By: Zia Shehzad, Lahore

Main aur Ahsan, younhi Ik Din
Bahir kahin Pe Ghoom Rahe Thay
Kuch Mausam Me Bhi Thi Masti
Aur kuch Hum Bhi Jhoom Rahe
Thay
Chalte Chalte Maine Poochha
Yaar Ahsan Ik Baat Bata
Mohabat ka koi Wajood Bhi Hai
Ya Hamare Zehen ki Haj Ikhtara?
Ahsan Bola Hans k Mujhse
Aksar khola Ye Baab Na kar
Enjoy krne Aaya Hoon
Mera Mood kharab Na kr
Ye Ishq Mohabat kuch Bhi Nahi
Bilawaja ki Dramay Baazi Hai
Sab Jhoothay Waadey krte Hain
Na Gawah Hai Na Qazi Hai
Tu Mujhko Aisi Misaal Dikha
K Phir Na Main Inkaar karoon
Main Bhi Lafz Mohabat Pe
Sache Dil Se Iqraar kroon
Ye Sun kr Main Chonk Gaya
Darya e Soch Me Gharaq Hua
Phir Yakayak Ik Khayal Aaya
Kuch Meri Haalat Mein Faraq Hua
Kisi Ne Mujh Me Rooh Phoonki
Jazbaat Me Main Behta Hi Gaya
Mohabat ki Azeem Misaalon Ko
Aqeedat Se kehta Hi Gaya
Aik Mohabat Adam ki
Naam Jiska Hawa Hai
Aik Ishq khuda ka Bhi
Jisak Naam Mustafa S.A.W Hai
Is Baat Ne Ahsan k Labon Pe
Jaise Qafal Tha Daal Diya
Jaane Ya Anjaane Me Maine
Jawa Kaisa Kamaal Diya

Rate it:
Views: 821
06 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL