میں نے محبت کو مہاں جانا وہ مرض نہیں معیار ہے فقط
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمیں نے محبت کو مہاں جانا وہ مرض نہیں معیار ہے فقط
جنون بن گیا کوئی دھار انوکھی عشق الستی گنہگار ہے فقط
عیاں جرُم کے سب لہوُ لیئے ان سوداگروں کے پاؤ گری تھی
جہاں دوہرے دام پہ دل بکیں وہ بازار نہیں آزار ہے فقط
اک انجاں حسرت کے خاطر تو بھی شیریں سانس لے گئی
وہ سنگ ملن سنسار مانگے جیسے پیار بھی کوئی ادھار ہے فقط
ہوش میں پرجوش تھے کتنے کہ جان بھی قربان کریں گے
جو دل لیکر دغا کر جائے کہتے ہیں یہ سنسار ہے فقط
اس کو بھی کیا فطرت کہیں کہ ہر تصور میں آشنا تھے ہم
جس کو میں نے زندگی سمجھی وہ تو وقت کا گذار ہے فقط
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






