میں پریم روگی مجھے لاگ لپیٹ سے کام بھلا کیا؟
Poet: رعنا تبسم پاشا By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USAدیس بدیس در بدر دل کے داغ چھپائے پھروں
آنکھ کے سُونے درپن میں آس کی جوت جگائے پھروں
ٹوٹ گئی خوشیوں کی مالا بکھرے موتی کیسے سمیٹوں
ہار کے غم کی بازی میں موت کو گلے لگائے پھروں
تیرے روپ کی برکھا نے کتنے ہی دل سلگائے ہیں
میں پُروا کا پہلا جھونکا بن کر تجھ کو ساتھ اڑائے پھروں
جگ کی اندھیری راہوں میں جگنو بن کر چمکے جاؤں
جفا پرستوں کی محفل میں وفا کی شمع جلائے پھروں
میں پریم روگی مجھے لاگ لپیٹ سے کام بھلا کیا؟
تُو کلیوں جیسی کومل کنیا آخر کتنا خود کو بچائے پھروں؟
اِدھر بھی ہو نظر کرم رعنا! میں در تیرے سے لوٹوں تو
اِک عالم سرشاری میں یہ زمیں سر پہ اٹھائے پھروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






