گھر کی بربادی کے حالات نظر آتے ہیں
Poet: تصدیق احمد خان "تصدیق، اجمیر ہندوستان By: Tasdiq Ahmed Khan , Ajmerگھر کی بربادی کے حالات نظر آتے ہیں
انکے تبدیل خیالات نظر آتے ہیں
صرف میری ہی نہیں ان سے طلب ملنے کی
وہ بھی مشتاقِ ملاقات نظر آ تے ہیں
انکی یادوں کو بھلاؤں تو بھلاؤں کیسے
وہ تصور میں بھی دن رات نظر آ تے ہیں
بے اثر یوں نہ ہوئیں میری وفائیں یارو
انکے سوئے ہوئے جزبات نظر آ تے ہیں
خاص جو دوست ہیں ملتی ہے یہ خصلت ان میں
وقتِ مشکل وہ سدا ساتھ نظر آ تے ہیں
جنکے وعدوں نے حسیں خواب دکھاۓ مجھکو
اف بدلتے ہوئے وہ بات نظر آ تے ہیں
زخمِ نو دیتا ہے تصدیق وہ ہر دن پھر بھی
تم کو آ ثارِ عنایات نظر آ تے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






