میں پیاسا ہوں مدت سے
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTشب وصل کو انعام کیا کمال دیا اس نے
مجھے رسوا کر کے اپنی گلی سے نکال دیا اس نے
دور تھا تو کرتا تھا باتیں بہت محبت کی
ہوا رو برو تو ہنس کے مجھے ٹال دیا اس نے
میں تو آرزو لے کے گیا تھا مسکان کی لیکن
رونا عمر بھر کا جھو لی میں ڑال دیا اس نے
اسے خبر تھی میں پیاسا ہوں مدت سے اس لئے
اک دریا میری آنکھوں سے اچھال دیا اس نے
میں زود آشنا تھا جو کر لیا اس پہ اعتبار
اسی سبب میری تمناؤ ں کو زوال دیا اس نے
مجھے میری ہی نظروں میں آج گرا دیا امتیاز
تحفہ عشق اس سے کرنے کا بے مثال دیا اس نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






