کوئی بتائے ہم کو
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTطوفان کے پرلے پار کا نظارہ ملے گا کہ نہیں
زیست کی ڈوبتی ناؤ کو کنارہ ملے گا کہ نہیں
کب تلک یہ وارث رہیں گے لا وارثوں کی طرح
کوئی بتائے ہم کو ،حق ہمارا ملے گا کہ نہیں
زندگی نے تو در سے ہمیں کر دیا در بدر
اے موت تیری آغوش میں بھی سہارا ملے گا کہ نہیں
کوئی تو میرے سوال کا دے دے جواب مجھے
وہ آسماں سے ٹوٹا ہوا ستارہ ملے گا کہ نہیں
ہم مایوس نہیں مولا پھر بھی منتظر ہیں یہ نگاہیں
تیری بے آواز لاٹھی کا اشارہ ملے گا کہ نہیں
شام ہو گئی ہے امتیاز اب تو گھر کی راہ لو
کیا خبر وہ پاگل، دیوانہ، وہ آوارہ ملے گا کہ نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






