میں چاہتی ہوں اس سے بھی کوئی جفا کرے

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Malaysia

اس زندگی کی راہ میں کوئی دعا کرے
میری وفا کا وہ بھی کبھی حق ادا کرے

قربان جاؤں آج بھی تیرے نصیب پر
جور و جفا ہی میرا مقدر سدا کرے

کھیلا ہے کھیل اس نے جو میری وفاؤں سے
میں چاہتی ہوں اس سے بھی کوئی جفا کرے

جس نے مرے خیال کو سوچا نہ کچھ کہا
پھر اپنی زندگی سے وہ کیسے گلہ کرے

جس زندگی میں ، میں بھی ہوں قربان آپ پر
اس زندگی کی سیج پہ مجھ سے ملا کرے

جو چاہتا ہے تیرگی چھٹ جائے رات کی
وہ صورتِ چراغ ہی نکلے ، جلا کرے

جس حال میں وجود ہے بکھرا ہوا یہاں
اس حال میں ہی آ کے وہ مل لے ، خدا کرے

جب جانتا ہے روٹھی ہوں اس کی خطاؤں سے
میں مان جاؤں وہ بھی تو کوشش ذرا کرے

جس شخص کے لئے یہاں آنکھیں بچھائی ہیں
وہ وشمہ میرے جال میں ہر دم رہا کرے

Rate it:
Views: 459
26 Feb, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL