میں کیا مثال دوں اس کی انگڑائی کی
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamمیں کیا مثال دوں اس کی انگڑائی کی
یہی تو جان لیوا ادا ہے میری ہمسائی کی
ہم دونوں کو باتوں سےفرصت نہیں ملتی
ہمارے درمیاں نوبت آتی نہیں لڑائی کی
اس کہ دل میں بخیلی گھر کر گئی ہے
ڈاکترکہتاہے اسے حاجت ہے صفائی کی
صبح جب اس کہ گھردودھ مانگنےگیا
بل ڈاگ میرےپیچھےلگا کرپذیرائی کی
آج اپنےرستےزخموں کودیکھاتوخیال آیا
میں نے پڑوسن سےکیوں آشنائی کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






