میں یہ سوچُوں تو مِرے ہوش نِکَل جاتے ہیں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمیں یہ سوچُوں تو مِرے ہوش نِکَل جاتے ہیں
جانے کیوں لوگ یہ پَل بَھر میں بَدَل جاتے ہیں
ہے دیا مُجھکو یہی ڈُوبتی ناؤ نے سَبَق
عَزم پُختہ ہوں تو طُوفان بھی ٹَل جاتے ہیں
ایسا کیا ہے تیری لَو میں مُجھے شمع تُو بَتا
سوچے سَمجھے بِنا پَروانے جو جَل جاتے ہیں
میرے اَشعار میں جب بھی تیرا نام آ جاۓ
جانے کیوں پِھر میرے اَلفاظ مَچَل جاتے ہیں
میں بَھلا کیسے تِرے ہِجر میں مَر سکتا ہوں
بَند پِنجرے میں پرندے بھی تو پَل جاتے ہیں
جب تِرا اِسم مُبارک کِسی لَب پَر آۓ
گِرتے گِرتے تِرے دِیوانے سنبَھل جاتے ہیں
ہمیں باقرؔ کِسی شَۓ کا بھی نہیں ہے لالَچ
بس تِرا ذِکر جو ہو جاۓ بہل جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






