کہ جِس کی خُوشبُو ہے اَب گُلابوں میں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiکہ جِس کی خُوشبُو ہے اَب گُلابوں میں
کَبھی وہ رہتا تھا میرے خوابوں میں
میں کُھل کے دِیدار بھی نہ کر پایا
مِلا وہ جَب بھی مِلا حِجابوں میں
کَبھی جو پُھول اُس نے مُجھ کو بھیجے تھے
پَڑے ہیں بِکھرے ہوۓ کِتابوں میں
بَھٹَک رہا ہوں جو آج سَڑکوں پَر
شُمار میرا بھی تھا نَوابوں میں
نہ یاد آۓ کَبھی مُجھے اُس کی
مَیں مَحو رہتا ہوں اَب شَرابوں میں
ہماری مانِند سے کون کون اُجڑا
مِلیں گے قِصے تُمہیں نِصابوں میں
نہ چین باقرؔ کَبھی مِلا مُجھ کو
کَٹی یونہی زِندگی عَذابوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






