نئی محبتوں کو تم شمار کرو
Poet: hira By: hira, gojraنئی محبتوں کو تم شمار کرو
پرانی داستانوں میں کیا رکھا ہے
نازک پھولوں سے مہکار کرو
چبھتے کانٹوں میں کیا رکھا ہے
چمکتی صبح کو تم بیدار کرو
دھندلی شاموں میں کیا رکھا ہے
نئے لفظوں کا تم شمار کرو
شکستہ ڈائرئیوں میں کیا رکھا ہے
حسیں راستوں سے آغاز کرو
تلووں کے چھالوں میں کیا رکھا ہے
جواں دھڑکنوں کو بےقرار کرو
اجاڑ حالوں میں کیا رکھا ہے
دل والوں سے تم پیار کرو
غم کے ماروں میں کیا رکھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






