Alag Hi Dour Tha

Poet: Shamsul "ShamS" By: Shamsul Hasan, New Delhi

Alag Hi Dour Tha
Jab Tum Thin Main Tha Aur Ishq Tha

Hazaar Rangon Se Suhaani Thin Chandni Raatein
Chaand Tha Sitaare They Aur Raat Thi

Jugnooun Se Roshan Gulsitaan They
Hawa Paani Parbat Jharne
Sab Mai Alag Hi Nasha Tha

Panch Bhi Surili Aawaaz Mai Gungunate They
Tumhaara Naam Lekar

Khushbooein Bikhri Thin Har Shay Mai
Chahal Pahal Ka Mousam Tha Har Soo Mai

Kitni Dilkash Thi Wo Mulaqaatein Apni
Jab Tum Thin Main Tha Aur Ishq Tha

Khuda Jaane Kiski Nazar Lagi Humko
Ishq Ka Saya Bhi Mere Paas Na Raha

Gham Tanhaai Bebasi Bekhudi Ranj
Muqaddar-E-Jahaan Ka Naseeb Ho Gaye

Haaye Afsos
Tum Juda Ho Gaye

Naam-O-Nishaan Hi Na Raha Shahr Mai Mohabbat Ka
Tum Kya Gaye
Taqdeer Ki Badal Gayi

Reh Gaya Gham Ke Dariya Mai Simatkar Muqaddar Mera
Tum Kya Gaye
Sab Kuch Mujhse Chuta Ek Ek Kar Ke

Tangdili Pareshaaniyan Judaai Ka Bojh
Tumse Bichadne Ke Baad
Ye Sab Hai Muqaddar Mai Mere

Thodi Nawajish-E-Karam Reham Ka Saya
Meri Ghurbat Ki Janib Kar Do

Bohat Tang-Haal Hoon
Tumhaari Judaai Ke Baad

Guzarish-E-Dil Ki Tamanna Hai Ke Tum Aa Jaao

Lekar Sukoon-E-Khushi Ronakein Tamaam
Tum Aa Jaao
Mere Liye
Bas Tum Aa Jaao.
 

Rate it:
Views: 762
22 Sep, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL