نا وہ کوئی شہزادہ تھا

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

نا وہ کوئی شہزادہ تھا
نا لہجے میں کوئی مٹھاس تھی
نا معصوم لگتا تھا اداؤں سے وہ
نا کوئی دل لبہانے والی بات تھی
چہرہ بھی میرا طرح کا
آنکھیں بھی سیاہ تھی
سادہ سا لہجہ ،
لفظوں سے تلخی بیاں تھی
اوروں سے بہت
مختلف سی آواز
جو میرے دل میں ُاتر جاتی تھی
باتوں کو چھپانے میں ماہر تھا وہ
لیکن مجھ سے
چھپتی نا کوئی بات تھی
نا اظہار کرنے کا شوق تھا ُاسے
نا میری خامشی
برداشت تھی ُاسے
بچوں سا ضدی اور
غصے میں تو بس
خدا کی پناہ تھی
میں دور بھی جاؤں
تو ُاسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
ُاس کی زندگی میں
مصروفیت ہی دلدار تھی
آج کر دیا تعلق ترک دونوں نے
جیسے کبھی ہوئی
نا پیار کی کوئی بات تھی
سادہ سا وہ شخص
لیکن تعحجب ہیں لکی
کہ اک ُاسی کے بناء
میری زندگی محال تھی
کوئی سمجھ کر بھی
کیوں نا سمجھا
وہ دور سہی لیکن
میرے دل کی آُس کے دل سے
ُاس کے دل کی میرے دل سے راہ تھی

Rate it:
Views: 1054
23 Jan, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL