نادم ہوں ملنے آ نہ سکا تم سے معذرت
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiنادم ہوں ملنے آ نہ سکا تم سے معذرت
مصروف تھا بتا نہ سکا تم سے معذرت
کرتا ہوں پیار تم سے مرے دل میں رہتے ہو
احساس میں دلا نہ سکا تم سے معذرت
بے لوث پیار کرتا ہوں کر لو یقین تم
دل چیر کے دکھا نہ سکا تم سے معذرت
گزری کیا ہے ساتھ مرے ہجر کرب میں
رودار میں سنا نہ سکا تم سے معذرت
آتے ہو یاد مجھ کو بہت بھولے ہی نہیں
میں ہجر غم بھلا نہ سکا تم سے معذرت
یادیں جڑی ہیں پیار سے تم نے لکھے ہوں گے
میں تیرے خط جلا نہ سکا تم سے معذرت
مجبور یاں بہت تھیں نہیں ہوں میں بے وفا
میں ساتھ یوں نبھا نہ سکا تم سے معذرت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






