اسے تو اپنے ہی مصروف کام پر رکھا

Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsi

اسے تو اپنے ہی مصروف کام پر رکھا
بھروسہ میں نے مکمل غلام پر رکھا

سنا چکے ہیں سبھی اپنی شاعری لیکن
عدو مرے نے مرا نام اختتام پر رکھا
مرے تو درد کی حدت مزید بڑھ گئی ہے
یہ ہاتھ اپنا میں نے جب مسام پر رکھا

دکھانا یار کو تھا اس لیے گیا ہوں مے خانے
نہیں میں پیتا مگر خود کو جام پر رکھا

کوئی بھی کام نہیں آتا ڈھنگ سے تھا مجھے
غزل سے ذوق تھا کتیہ کلام پر رکھا
کبھی بھی سوچا نہیں ہے میں نے برا ان کا
تھا رشتہ ایسا اسے ا حترام پر رکھا

تھا ہر طرف ہی اندھیرا یہ روشنی کہاں تھی
چراغ صبح کو دیوار شام پر رکھا
تری نگاہ کو آنکھیں مری تو ترس گئیں
خوشی یہی ہے مجھے التزام پر رکھا

مری بساط سے بڑھ کر عطا کیا ہے رزق
خدا نے مجھ کو تو اعلی مقام پر رکھا
امیر لوگ تجارے عجیب کرتے ہیں
جفا کی آڑ میں کارِ دوام پر رکھا

ملاپ اپنا کبھی ہونا ہی نہیں شہزاد
یہ رابطہ تھا ہی اتنا کہ دام پر رکھا

Rate it:
Views: 276
25 Dec, 2022
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL