نام ور ہیں نہ کوئی شہرتِ فن رکھتے ہیں

Poet: Aitbar Sajid By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

 نام ور ہیں نہ کوئی شہرتِ فن رکھتے ہیں
ہم فقط حرمتِ دستارِ سخن رکھتے ہیں

چاہے کاغذ پہ ہو بنیاد کہ خوابوں پہ اساس
ہرجگہ شہر بسانے کی لگن رکھتے ہیں

گل فروشی نہیں کرتے کہ نگہبان ہیں ہم
منصب پرسشِ احوالِ چمن رکھتے ہیں

اور کچھ خاص نہیں اپنی اداسی کا سبب
شہر میں رہتے ہیں ہم ، روح میں بن رکھتے ہیں

کوئی حکمت نہ مہارت نہ سلیقہ نہ ہنر
اک ذرا شعر میں بے ساختہ پن رکھتے ہیں

جن کا مسلک نہ ادب ہے نہ محبت ساجد
ان سے ہم کم ہی ذرا ربط سخن رکھتے ہیں

Rate it:
Views: 773
27 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL