نہ پوچھ ہم سے کہ اس گھر میں کیا ہمارا ہے

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

نہ پوچھ ہم سے کہ اس گھر میں کیا ہمارا ہے
اسی میں خوش ہیں کہ حسنِ فضا ہمارا ہے

الگ مزاج ہے اپنا تمام لوگوں سے
تمام قصوں میں قصہ جدا ہمارا ہے

کسی بھی خشت پہ ہر چند حق نہیں رکھتے
مگر یہ شہر بفضلِ خدا ہمارا ہے

ہماری شہرتوں ، رسوائیوں کے کیا کہنے
کہ سنگ راہ بھی نام آشنا ہمارا ہے

جلاتے پھرتے ہیں ہم کاغذی گھروں میں چراغ
رہے یہ ڈھنگ ، تو حافظ خدا ہمارا ہے

دلوں کے قرے بیگانگی میں رہتے ہیں
سو ، دوستو یہی تازہ پتہ ہمارا ہے

ہمیں یہ آخری خوش فہمیاں نہ لے ڈوبیں
کہ سیل آب شریک نوا ہمارا ہے

بہت ہے شور مگر اطمینان بھی کر یہاں
کوئی تو ہے جو سخن آشنا ہمارا ہے

Rate it:
Views: 591
27 Aug, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL