ناکام یک طرفہ محبت

Poet: نعمان احمد عاجز By: Nouman Ahmad, Frankfurt Am Main

بُہتوں نے دھتکار کر ٹھکرایا پر آہ تک نہ نکلی
جَو تُو نے منع کیا تو جیسے جاں ہی نکل گئ

کچھ ایسی محبت کی داستاں تھی ہماری
کہ زباں فصیح تھی مگر خاموش بیچاری

دل اُسکا وہ دریا تھا کہ سفینہ سب کا پار اُتارا
ہم توکنارہ پہ اُسکے تھے پھر کیوں بہا گیا ہمیں

وصل کی پیاس میں دریائےیار کےسنگ اِتنا بیٹھے
کہ پانی بول اُٹھا کیا بات ہے آپ یہاں کیسے

وہ وہ دریا تھا کہ سب جس سے سیراب ہوتے رہے
ہم وہ ساقی تھے کہ جو ڈوب کر بھی پیاسے رہے

آرزُوئے وصل لئے درِ یار پر اِتنا بیٹھے
کہ نَر گدا بنےرقیب ہمارا حال پُوچھے

دل کی دھڑکن بنی محبوب کے در پر دستک
ہم بنے خُلقِ جاناں کے فقیر، اورصدا لگاتے رہے

تشبہیہ نہ دینا کبھی دل کو ویرا نہ سے عاجز
وہ بھی ایک زماں کبھی آباد ہوا کرتا تھا

Rate it:
Views: 822
11 Jun, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL