ناکام یک طرفہ محبت
Poet: نعمان احمد عاجز By: Nouman Ahmad, Frankfurt Am Mainبُہتوں نے دھتکار کر ٹھکرایا پر آہ تک نہ نکلی
جَو تُو نے منع کیا تو جیسے جاں ہی نکل گئ
کچھ ایسی محبت کی داستاں تھی ہماری
کہ زباں فصیح تھی مگر خاموش بیچاری
دل اُسکا وہ دریا تھا کہ سفینہ سب کا پار اُتارا
ہم توکنارہ پہ اُسکے تھے پھر کیوں بہا گیا ہمیں
وصل کی پیاس میں دریائےیار کےسنگ اِتنا بیٹھے
کہ پانی بول اُٹھا کیا بات ہے آپ یہاں کیسے
وہ وہ دریا تھا کہ سب جس سے سیراب ہوتے رہے
ہم وہ ساقی تھے کہ جو ڈوب کر بھی پیاسے رہے
آرزُوئے وصل لئے درِ یار پر اِتنا بیٹھے
کہ نَر گدا بنےرقیب ہمارا حال پُوچھے
دل کی دھڑکن بنی محبوب کے در پر دستک
ہم بنے خُلقِ جاناں کے فقیر، اورصدا لگاتے رہے
تشبہیہ نہ دینا کبھی دل کو ویرا نہ سے عاجز
وہ بھی ایک زماں کبھی آباد ہوا کرتا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






