نفرتوں میں یا محبتوں میں کلام آئے

Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwala

نفرتوں یا محبتوں میں کلام آئے 
ترے لبوں پے مگر میرا نام آئے 

کومل ہاتھوں میں ہو گلاس تو پی جائوں ہنس کے
چاہے میرے لئے وہ زہریلا جام آئے 

جھوم اُٹھوں خوشی میں ناچوں گاہوں میں
میرے لئے ترا جو کوئی پیغام آئے 

اگر خدا دے مجھے جنم دوبارہ اِس جہاں میں
دل چاہے کہ ترا بن کے غلام آئے 

تری محبت میں فقط محبت کی ہی خواہش نہیں
غنیمت سمجھو جو ترا کوئی الزام آئے 

گھر کی دیواروں پے سجا لُویوں اُسے شوق سے
کانٹا بھی اگر کوئی تحفہِ سلام آئے 

تُم رہو میری باہوں میں کسی روز جاناں!
پھر نہ کوئی دن کوئی شام آئے 

جان کی قیمت دے کے لے لوئوں تجھے جہاں سے
سانسوں کا تجھ پے جو دام آئے 

تُم آئو تو چین آئے دلِ بے تاب کو
تُم آئو تو جاناں! آرام آئے 

نہال کے گھر آئو تُم دلہن بن کے کسی روز
دعا ہے جلد وہ ایام آئے 
 

Rate it:
Views: 562
19 Oct, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL