نقاب سے یوں نہ ہم کو دیکھو (دوگانا،کورس)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistan

۔۔۔لڑکا اور دوست۔۔۔

نقاب سے یوں نہ ہم کو دیکھو
تمھاری آنکھوں پہ مر رہے ہیں

پیے بنا اب نہ رہ سکیں گے
کہ جام نظروں کے بھر رہے ہیں

تمھاری شوخی بھری ادائیں
ہماراچپکے سے دل چرائیں
تمھاری قربت ہے ایک جادو
کبھی بھی تم سے نہ دور جائیں

کہیں جدا ہم سے ہو نہ جاؤ
اداس لمحوں سے ڈر رہے ہیں

نقاب سے یوں نہ ہم کو دیکھو
تمھاری آنکھوں پہ مر رہے ہیں

۔۔۔لڑکی اور سکھیاں۔۔۔

اجی بتائیں تو کیوں ہماری
حسین آنکھوں پہ مر رہے ہیں ؟

ہماری رنگیں اداؤں پر کیوں
جناب یوں آہیں بھر رہے ہیں ؟

ابھی تو چہرہ نہیں دکھایا
نقاب ہم نے نہیں ہٹایا

چھپا ہے پردے میں سارا جادو
ابھی تو پردہ نہیں اٹھایا

حضور اتنا بہت ہے جائیں
معاف ہم آج کر رہے ہیں

اجی بتائیں تو کیوں ہماری
حسین آنکھوں پہ مر رہے ہیں

ہماری رنگیں اداؤں پر کیوں
جناب یوں آہیں بھر رہے ہیں

Rate it:
Views: 1506
08 Apr, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL