نقس قدم تمہارے
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.Aوحشت میں آ کے چومے نقش قدم تمہارے
اشکوں کے قافلے ہیں روتے ہیں سب ستارے
بڑھتی گئیں تلخیاں مہ نوشی کے جنوں میں
احساس تب ہوا جب چھوٹے سب سہارے
سوزو فراق کا موسم دیپک بھی بجھ گئے ہیں
اس حبس بے وجہ میں اب کون زلف سنوارے
نگاہوں میں آج بھی ہیں وہ رنگ و بو کی گلیاں
دل بھولتا نہیں ہے فرصت کے وہ نظارے
مجنوں سی کیفیت ہے اور دھر میں ٹھکانہ
عاشق تیری نظر کے صحرا میں تجھے پکارے
تیری خاموشیوں کا حسن آنکھوں سے بولتا تھا
تیری ہر ادا کے جلوے ہمیں جان سے تھے پیارے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







