نواۓسروش
Poet: habib ur rehman By: habib ur rehman , chakwalیہ جو ہم میں تم میں فراق ہے
کسی اور کی نہیں سازشیں
کبھی روٹھنا کبھی بولنا.
یہ سبھی تمہاری ہیں خواہشیں
سب دوش تم کو ہیں میری جاں
یہ جفا نہیں، ہیں حقیقتیں
میری زندگی میں تو جب سے ہے
میری ہیں خذاں سے عداوتیں
تیرے حسن کو جو بیاں کریں
وہ کہاں ہم میں فصاحتیں
کھلے گیسو بولے ہیں حال شب
میں نہ چاہوں کچھ بھی وضاحتیں
تجھے چاہتے تو ہزار ہیں
اب کس پہ ہوتی ہیں رحمتیں
ڈوبا عشق رب میں،تو ملی حبیب
ہیں عبادتوں کی حلاوتیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






